🚀 Join Our Official WhatsApp Community
💸 Get Free Earning Updates, Daily Tasks & New Opportunities!
👉 Join Now
  • Love
    Like
    7
    ·59 Visualizações ·0 Anterior
  • Like
    Love
    7
    ·37 Visualizações ·0 Anterior
  • hello please sab follow kara and support kara for more contain and id share karaa #follow
    hello please sab follow kara and support kara for more contain and id share karaa #follow
    Love
    Like
    Haha
    Yay
    18
    2 Comentários ·319 Visualizações ·0 Anterior
  • خیبر پختونخوا کے علاقہ مانسہرہ کی رہائشی 17 سالہ صبغا (دختر امجد) کا بدین کے رہائشی طالب علم محمد رمضان جونیجو سے تقریباً ایک سال قبل فون پر رابطہ ہوا تھا، وقت کے ساتھ یہ رابطہ گہری دوستی اور محبت میں بدل گیا، جس کے بعد دونوں نے زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا۔

    نصیرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صبغا نے موقف اختیار کیا کہ اس کے گھر والے اس کی مرضی کے خلاف شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کرنا چاہتے تھے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ صرف اپنے کپڑے لے کر گھر سے نکلی اور دو دن کا طویل سفر طے کر کے بدین پہنچی، جہاں دونوں نے مقامی عدالت میں قانونی طور پر نکاح کر لیا۔

    پسند کی شادی کرنے کے بعد نو بیاہتا جوڑے نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی جان کو خطرہ ظاہر کیا ہے، انہوں نے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔
    دوسری جانب خیبر پختونخوا کے قانون کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال ہونی چاہیے، جس کی رو سے صبغا (17 سال) کی ہے، تاہم، صوبہ سندھ کے 'سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ' کے تحت لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال ہونا لازمی ہے۔

    سندھ کی حدود میں 18 سال سے کم عمر کی شادی قانوناً جرم تصور ہوتی ہے،مقامی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
    خیبر پختونخوا کے علاقہ مانسہرہ کی رہائشی 17 سالہ صبغا (دختر امجد) کا بدین کے رہائشی طالب علم محمد رمضان جونیجو سے تقریباً ایک سال قبل فون پر رابطہ ہوا تھا، وقت کے ساتھ یہ رابطہ گہری دوستی اور محبت میں بدل گیا، جس کے بعد دونوں نے زندگی بھر کا ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا۔ نصیرآباد پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صبغا نے موقف اختیار کیا کہ اس کے گھر والے اس کی مرضی کے خلاف شادی ایک بڑی عمر کے شخص سے کرنا چاہتے تھے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ صرف اپنے کپڑے لے کر گھر سے نکلی اور دو دن کا طویل سفر طے کر کے بدین پہنچی، جہاں دونوں نے مقامی عدالت میں قانونی طور پر نکاح کر لیا۔ پسند کی شادی کرنے کے بعد نو بیاہتا جوڑے نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی جان کو خطرہ ظاہر کیا ہے، انہوں نے حکومتِ سندھ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے فیصلے کا احترام کیا جائے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے قانون کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال ہونی چاہیے، جس کی رو سے صبغا (17 سال) کی ہے، تاہم، صوبہ سندھ کے 'سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ' کے تحت لڑکی اور لڑکے دونوں کے لیے شادی کی قانونی عمر 18 سال ہونا لازمی ہے۔ سندھ کی حدود میں 18 سال سے کم عمر کی شادی قانوناً جرم تصور ہوتی ہے،مقامی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
    Like
    Love
    Haha
    9
    ·77 Visualizações ·0 Anterior
  • Love
    Like
    8
    ·88 Visualizações ·0 Anterior
  • kya ma cute hu
    follow me guys please for more videos
    kya 🤪 ma cute hu follow me guys please for more videos
    Love
    Like
    Wow
    23
    1 Comentários ·370 Visualizações ·0 Anterior
  • Like
    Love
    8
    ·56 Visualizações ·0 Anterior
  • Ads watching work for more details follow mee
    Ads watching work for more details follow mee
    Like
    Love
    8
    ·52 Visualizações ·0 Anterior
  • Like
    Love
    10
    1 Comentários ·45 Visualizações ·1 Anterior
  • Love
    Like
    Haha
    21
    3 Comentários ·297 Visualizações ·1 Compartilhamentos ·0 Anterior
USM https://unitedsocialmarket.com