نہ شہر کی بھاگ دوڑ، نہ دنیا کا شور ہے
یہاں صِرف ہواؤں کا اپنا ہی زور ہے
ملتا ہے جہاں روح کو اک پل کا سکون
یہ وادی، یہ پہاڑ، یہ منظر ہی کچھ اور ہے
یہاں صِرف ہواؤں کا اپنا ہی زور ہے
ملتا ہے جہاں روح کو اک پل کا سکون
یہ وادی، یہ پہاڑ، یہ منظر ہی کچھ اور ہے
نہ شہر کی بھاگ دوڑ، نہ دنیا کا شور ہے
یہاں صِرف ہواؤں کا اپنا ہی زور ہے
ملتا ہے جہاں روح کو اک پل کا سکون
یہ وادی، یہ پہاڑ، یہ منظر ہی کچھ اور ہے
2 Kommentare
·165 Ansichten
·0 Bewertungen