ہم نے ہنس کر ہر درد چھپا لیا،
لوگ سمجھے ہمیں کوئی غم ہی نہیں۔
جسے اپنا سمجھا وہی بدل گیا،
دل خاموش رہا مگر اندر سے بکھر گیا۔
اب کسی سے کوئی گلہ نہیں رہا،
جس نے چھوڑنا تھا، آخر چھوڑ ہی گیا۔
خاموشی بھی اب درد سناتی ہے،
ہر رات تیری یاد رلاتی ہے۔
وفا کی امید جن سے تھی، وہی بے وفا نکلے،
ہم مسکراتے رہے، مگر اندر سے ٹوٹتے رہے۔
ہم نے ہنس کر ہر درد چھپا لیا،
لوگ سمجھے ہمیں کوئی غم ہی نہیں۔
جسے اپنا سمجھا وہی بدل گیا،
دل خاموش رہا مگر اندر سے بکھر گیا۔
اب کسی سے کوئی گلہ نہیں رہا،
جس نے چھوڑنا تھا، آخر چھوڑ ہی گیا۔
خاموشی بھی اب درد سناتی ہے،
ہر رات تیری یاد رلاتی ہے۔
وفا کی امید جن سے تھی، وہی بے وفا نکلے،
ہم مسکراتے رہے، مگر اندر سے ٹوٹتے رہے۔
·196 Visualizações
·0 Anterior